ریڈیو ویریتاس ایشیاء اْردو سروس کی پہلی آن لائن ریڈیو کانفرنس

ریڈیو ویریتاس ایشیاء اْردو سروس کی پہلی آن لائن ریڈیو کانفرنس
30سال قبل 14 اگست 1987کو ریڈیو ویریتاس ایشیاء اْردو سروس کا آغاز فلپائن سے ہوا ۔ ان 30 سالوں میں اْردو سروس نے اپنے سننے والوں کے دلوں میں امن ،سچائی ،محنت ،سلامتی اوربھائی چارے کے جذبات پیدا کیے اور اب اْردو سروس جدیدیت کے نئے تقاضوں پورا کرتی ہوئی آن لائن سروس کا آغاز کر چکی ہے ۔جوکہ یقیناًامن اور محبت کے نئے سویروں کاآغاز ہوگا اسی سلسلے میں 22اکتوبر 2017کو ریڈیو ویریتاس ایشیاء اْردو سروس کی پہلی آن لائن ریڈیو کانفرنس کا انعقاد ہوا ۔۔جس کی صدارت قومی کمیشن برائے ابلاغِ عامہ کے چئیرمین تقدس مآب بشپ جوزف ارشد نے کی۔جبکہ دیگر مہمانانِ گرامی جناب اسلم راؤ () اور فادر عنایت برنارڈ (ریکٹر ۔مائنر سیمنری )تھے۔ ۔ تقدس مآب بشپ جوزف ارشد نے باقاعدہ طور پر کانفرنس کے آغاز کا اعلان کیااورپہلی آن لائن ریڈیوکانفرنس کی شمع روشن کی اور کیک کاٹا ۔نیز مہمانانِ گرامی اور ڈائریکٹر اْردو سروس فادر قیصر فیروز کے ہمراہ سال 2018 کے موضوع ’’خدمتِ انسانیت ،محبت کی بلاہٹ‘‘کی رونمائی کی۔
ملک بھر سے اس کانفرنس میں تقریباً 150افراد نے شرکت کی۔ 
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تقدس مآب بشپ جوزف ارشد نے کہا کہ ریڈیو ویریتاس ایشیاء اْردو سروس کا شارٹ ویو سے آن لائن سرو پر منتقلی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ ہم دورِ حاضر میں جدید دور کی جدیدیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ،خدمت، محبت ،ذمہ داری،زندگی ،سلامتی اور پیار کی بلاہٹ کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے ۔جس کوجاننے اور محسوس کرنے سے زندگی ملتی ہے۔ اور امن کی راہیں مزید ہموار ہوتی ہیں۔نیز انہوں نے اس اقدام پر فادر قیصر فیروز اور تمام ٹیم کو مبارکباد پیش کی اور اْمید ظاہر کی کہ اس ترقی کی بدولت اب سامعین اور دوستوں کے مابین خیالات ،معلومات ،تخلیقات اور اقدار کا باہمی تبادلہ اور زیادہ تیزی سے ہو گا ۔ 
فادر قیصر فیروز نے اپنی گفتگو کا آغاز سامعین کی عمدہ طرزِ سماعت کو سراہتے ہوئے کیا اور کہا کہ اچھا سننے والا ہمیشہ ماحول کے مطا بق خود کو ڈھال اعلٰی موتی چْن لیتا ہے ۔ریڈیو ،الفاظ اور آواز کے تعلق اور تاثر کو فادر موصوف نے ایوانڈا کے دو مختلف ریڈیو زاسٹیشنز کی کا رکردگی کا موازنہ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریڈیو کے ذریعے پیغامات آواز اور الفاظ کے مرہونِ منت ہیں جس کے ذریعے ہم آہنگی بھی پیدا کی جا سکتی ہے اور تفرقہ بازی بھی ، مزید فادر موصوف نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کی زندگی کی مثا ل پیش کی کہ کس طرح اْس نے جرمنی سے پاکستان آنے تک کے سفر میں اپنی بلاہٹ کو پہچانا اور اسے قبول کیا اور اپنی پوری زندگی دکھی انسانیت کے لیے وقف کر دی ۔اْس کی پوری زندگی محبت اور خدمت کیاعلٰی مثال ہے جسے ہمیں اپنانے کی ضرورت ہے۔
فادر قیصر فیروز نے فادر وکٹر صدائیہ( ) کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا جو انہوں سے لسنرز دوستوں کے نام لکھا تھا کہ آج کی کلیسیا کی ڈیجیٹل آواز دنیا بالخصوص ایشیا کے سامعین کو ثقافت ،مذہب اور غریبوں کے ساتھ مکالمے میں یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی ۔نیز انہوں نیاس نئی رویا کی اقدار کو تین الفاظ میں یوں پرویا ۔۱۔ باہمی اتحاد ۲۔رحم ۳۔ زندگی کی اقدار 

فادر عنایت برنارڈ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے موضوع کے انتخاب کو خو ب سراہا اور کہا کہ چنیدہ موضوع وقت کی اہم ضرورت ہے ۔کیونکہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے افراد ہیں جوکہ نظر انداز ہو رہے ہیں اور انہیں ہماری محبت اور توجہ کی ضرورت ہے اس لیے ہمیں ر ول ماڈ ل بننا ہے تاکہ ہم دوسروں کے لیے نمونہ ٹھہریں اور امن ، محبت اور خدمت کے لیے اپنی کوششیں اور اعمال ہمیشہ جاری و ساری رکھیں۔

مہمانِ گرامی جناب اسلم راؤ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو دراصل ایک خدمت ہے۔ اور اس خدمت میں ہم سب حصہ دار ہیں ۔ایک براڈ کاسٹر اپنے سننے والوں کا مرشد ہوتا ہے ،ماں،بھائی ،اور استادبھی ہوتا ہے اورایک لسنرایک براڈ کاسٹر کی آکسیجن ہوتی ہے ۔جو ریڈیو کا اثاثہ ا ور فخر ہوتا ہے ۔نیز انہوں نے کانفرنس کی تقریب کو محبت کی محفل کا نام دیتے ہوئے کہا کہ نفرت کا کیڑا جو آج کل بڑی تیزی ہمارے اندر سرایت کر رہا ہے ایسی محبت کی محفلیں اگر سجتی رہیں گی تو ایسے جراثیم ہمارے دلوں سے ختم ہوتے رہیں گے۔ نیز انہوں نے موضوع کو سراہتے ہوئے کہاکہ ہمیں خدمتِ انسانیت اورمحبت کی بلاہٹ کی روشنی میں ہمیں ایسی روشنی بن کر نکلنا ہے جس سے ہم سے منسلک ہر ایک کا دل روشن ہو۔

تقدس مآب بشپ جوزف ارشد نے فادر قیصر فیروز کے ہمراہ تمام شرکا میں تحائف اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے۔اور شرکاء کے لیے خصوصی تحائف:2018 کا کیلنڈراورپروگرام گائیڈ ، ہینڈ بیگ ،پین اور نیوز لیٹر کی رونمائی کی۔جس کے بعد یہ تمام اشیاء شرکاء میں تقسیم کی گئیں۔
شارٹ ویو سے آن لائن سروس تک کے سفر میں پیش پیش شخصیات کو خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ 
کاننفرنس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس تقریب کو سامئین گھر بیٹھے لائیو بھی دیکھ رہے تھے ۔ اور جو سامعین مصروفیات یا کسی مجبوری کے تحت کانفرنس میں شرکت نہ کر سکے انہوں نے بھی اس پروگرام کو نا صرف فیس بک لائیو دیکھا بلکہ اپنے پیغامات بھی بھیجے جو دورانِ پروگرام وقتاً فوقتاً پرھے گئے ۔ 
مزید براں فرانسس زیوئیر اور آکاش نے بڑی پردہ سکرین پرآن لائن سروس کا طریقہء کار شرکا اور آن لائن دوستوں کو سمجھایا ۔ 
کانفرنس کے شرکاء نے ا آر۔وی۔اے ۔ اردو سروس کے آن لائن سفر کے آ غاز پر مبارکباد پیش کی ۔ علاوہ ازیں اشعاراور گیتوں ،اورخود کی لکھی تحریریں پیش کر کے کانفرنس کے آخری حصہ کو اور بھی زیادہ رونق بخشی۔نیز انہوں نے ریڈیو ویریتاس ایشیا ء اْردو سروس کے ساتھ قریبی رشتہ استوار ہونے پر خوش کا اظہار کیا ،اور نہایت شادمانی سے آر۔وی ۔اے کے امن مشن کو پھیلانے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔
سامعین نے یہ بھی کہا کہ ریڈیو ویریتاس ایشیا ء اْردو سروس کے فرد ہونے کی بدولت انسانیت اْن کا مذہب بن چکا ہے اور وہ امن ، محبت اور دوستی کے پیامبر کی شناخت سے جانے جاتے ہیں۔ 
دخترانِ پولوس جماعت کی نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کی خدمات کو نہایت خوبصورتی سے خاکہ کی صورت میں پیش کیا۔ 
اقبال کیمپ ،لیڈنگ سٹارز گروپ کے بچوں نے گیت پرخوبصورت رقص پیش کر کے محفل کا سماں باندھا۔کانفرنس کا اختتام فادر قیصر فیروز کے کلماتِ تشکر سے ہوا۔مس ارم عمران ،حمیرا پرویز اور عامر سہیل نے نظامت کے فرائض ماہرانہ طریقے سے ادا کرتے ہوئے لسنرز کانفرنس کو کامیاب بنایا۔