نوجوان میڈیا کو امن اور اتحاد کے فروغ کے لئے استعمال کریں ، ڈاکٹر بشپ جوزف ارشد

میڈیا صرف تفریح فراہم نہ کرے بلکہ لوگوں کی انسانی اقدار میں تربیت کرے۔ فادر قیصر فیروز 
رابطہ منزل کے سنگ نوجوانوں میں انقلاب کا عزم 
رپورٹ: ارم عمران، لاہور
رابطہ منزل لاہور میں ٹرینینگ ڈیپارٹمنٹ کو ایک نئی جلا بخشنے کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا،جس کا مو ضوع ’’ امن اور اتحا د کے صدا کار‘‘تھا۔ اس ورکشاپ میں پاکستان بھر سے زندگی کے مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے، 30 سے زائد ممبران نے شرکت کی۔اس تربیتی ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو فنِ خطابت ، صدا کاری اور لکھنے کے ہُنر سے آراستہ کرنا تھا۔ڈاکٹر بشپ جوزف ارشد، چئیرمین نیشنل کمیشن برائے سماجی ابلاغیات ،اور تقسیمِ اسناد کی تقریب کے مہمانِ خصوصی نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، ’’نوجوان میڈیا کو امن اور اتحاد کے فروغ کے لئے استعمال کریں ‘‘۔ انہوں نے رابطہ منزل کی خدمت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ رابطہ منزل میں چار ڈیپارٹمنٹ ہیں: ۱۔ ریڈیو ویریتاس ایشیاء اردو سروس: امن دوستی اور محبت کے پیغام کو پھیلانے کے لئے، ۲۔ ویو سٹوڈیو: مسیحی اور لطوریائی گیتوں کے ذریعے بشارت کے لئے، ۳۔ پاپائے اعظم کے عالمی یومِ ابلاغِ عامہ کے پیغام کو پاکستان میں پھیلانے کے لئے اور ۴۔ابلاغ اور میڈیا میں نوجوانوں کی تربیت کے لئے۔ 

ورکشاپ کے پہلے د ن فادر قیصر فیروز(ڈائریکٹر۔رابطہ منزل ) نے ابلاغ اور میڈیا کے حوالے سے مفصل اور صخیم گفتگو کرتے ہوئے ان کے حقیقی معنی اور بنیادی پہلوو ں کو اْجاگر کیا اور واضع کیا کہ حقیقت میں ابلاغ کا کام اور اس کے اثرات کس طرح ہماری زندگی کے ہر لمحے سے وابستہ ہیں نیزاسے کس طرح بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے انسانی ابلاغ کو بحیثیت ایک سماجی عمل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ابلاغ کا مقصد صرف معلومات کو منتقل کرنا ہی نہیں بلکہ تعلقات قائم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کا سماجی کردار صرف لوگوں کو تفریح فراہم کرنا نہیں ہونا چاہئے بلکہ انسانی اقدار میں لوگوں کو تربیت دینا چاہئے تاکہ سماجی امن قائم ہو۔ عوامی خطابت میں شرکاء کی تربیت کے لئے مختلف مشقیں کروائی گئی ۔فادر موصوف نے اپنی گفتگو کو مزید آسان،دلچسپ اورشرکا کو ذہن نشین کروانے کے لئے مختلف ویڈیوز اور سلائیڈز کا استعمال کیا جسے شرکاء نے خوب سراہا۔

پہلے دن کے دوسرے حصے میں ریڈیو، ڈرامہ اور فلم کی دنیا کی مایہ ناز شخصیت جناب اسلم راؤ نے آواز کو بہتر اور موثر بنانے کی مختلف مشقیں کروائیں۔جس کے ذریعے تمام شرکا ء نے آواز کے بنیادی اصولوں ،مشقوں اور ضرورتوں کو نا صرف جانا بلکہ عملی طور پر انھیں انجام بھی دیا۔ ورکشاپ کے اسی حصے میں سکرپٹ رائٹنگ کے بنیادی اصولوں سے نا صرف واقفیت دلائی بلکہ عملی مشقوں کے ذریعے شرکا ء کے فن کو نکھارنے کے لیے ان کے کام کی درستگی بھی کی۔
دوسرے دن کا آغاز اسلم راؤ نے ڈرامہ نگاری کے اصولوں کو بیان کرتے ہوئے کیا ، شرکا کو مختلف گرہوں میں تقسیم کیا گیا اور ڈرامہ نگاری اور ڈائیلاگ کی ادائیگی)ڈلیوری) کی مختلف مشقیں کروائیں۔انہوں نے کہا کہ ایک براڈکاسٹر کے پاس لفظوں کی طاقت ہوتی ہے۔ آپ لوگوں کے دلوں سے نفرتیں نکالنے کے ڈاکٹر ہیں ۔ ضرور ہے کہ آپ اس فریضے کو حلیمی ، سادگی اور محبت سے سرانجام دیں۔ 

مسٹر عامر سہیل(پروگرام پروڈیوسر ۔آر۔وی۔اے اْردو سروس )نے انفوٹیمنٹ (infotainment) کی صلاح پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ مزاح کے زمرے میں رہتے ہوئے کس طرح سے معلومات منتقل کی جا سکتی ہیں۔ نیز انہوں نے کہا کہ معلومات کے ساتھ ساتھ تفریح کا رنگ آپ کے پروگرام کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔ ۔
عامر سہیل کے سیشن کے بعد مس ارم عمران نے vocal variety یعنی اْواز کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آواز کا استعمال مختلف سطحوں اور مختلف انداز میں خوبصورت ادائیگی کے ساتھ کسطرح کیا جا سکتا ہے۔نیز انہوں نے آواز میں جذبات کے عناصر اور درجات کے موضوعات کو بھی زیرِ بحث رکھا ۔
دوسرے دن کے اختتام پر مسٹر فرانسس زیوئیر نے آڈیو سافٹ وئیر (Adobe Audition) کے ساتھ آڈیو ریکارڈنگ اور ایڈیٹنگ کرنا سکھایا۔اور اس سے متعلقہ سلائیڈز بھی پرہ سکرین پر دیکھائیں۔ سیکھنے کا یہ عمل تیسرے روز کے پہلے حصے تک جاری رہا۔




بعدازاں تمام شرکاء نے ریکارڈنگ کے سلسلے کو جانا اور بذاتِ خود ریکارڈنگ کے مرحلے سے گزرے جبکہ اسی دوران فادر قیصر فیروز نے کہانی بتانے کے فن پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ یسوع المسیح نے سننے والوں کی تربیت کے لئے کہانیوں کا استعمال بڑے موثر طریقے سے کیا۔ مسرف بیٹے اور رحم دل باپ کی کہانی ایسی پُر زور اور موثر کہانی ہے جس نے کروڑوں لوگوں کی زندگی کی کہانی کو بدل کر رکھ دیا ہے اور آج بھی اس کہانی کے پیغام سے لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہو رہی ہیں ۔ 
ورکشاپ کے آخری حصے کا آغاز تقدس مآب بشپ جوزف ارشد کی آمد پر دعا ،تلاوتِ کلامِ پاک اورگیت سے ہوا ۔ تقدس مآب بشپ جوزف ارشد کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے پُر جوش استقبال کیا گیا اور مالا اور گلدستہ پیش کیا گیا ۔
تقدس مآب بشپ جوزف ارشد کی موجودگی میں شرکاء کی ریکارڈنگز سنی گئی۔ فادر قیصر فیروز نے ان ریکارڈنگز کے حوالے سے ان کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجزیہ پیش کیا ۔اور بہترین کارکردگی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ۔

بعدازاں تقدس مآب بشپ جوزف ارشد نے اپنے دستِ مبارک سے فادر قیصر کے ہمراہ تمام شرکا میں اسناد تقسیم کیں ۔
تمام شرکا کی نمائندگی کرتے ہوئے چند دوستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا :
*رابطہ منزل کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں کے لیے ایسی ورکشاپس اکژوبیشتر کرتے رہنا چاہیے 
*اس ورکشاپ کا معیار قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح کا ہے۔

* تمام سپیکرز اپنے دائراہ کار میں اعلٰی مہارت رکھتے ہیں جنھوں نے بڑے اعلٰی طریقے سے ہمیں سکھایا 
* دل سے فادر قیصر فیروز کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے نوجوانوں کے لئے ایک عمدہ ورکشاپ کا اہتمام کیا ۔
ورکشاپ کے اس حصے کو دو شرکاء ؛شفاقت اور صداقت نے اپنی خوبصورت آوازوں میں حمدیہ گیت گا کر دلکش بنا دیا ۔ 
اظہارِخیال کرتے ہوئے تقدس مآب بشپ جوزف ارشد نے ورکشاپ کے انعقاد اور اور ااس کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ا ور تین بڑی خوشخبریوں کا اعلان کیا :
۱۔اسی گروپ کو لیتے ہوئے درجہ دوم کی ورکشاپ کا اہتمام کیا جائے۔
۲۔ اسی گروپ کے با صلاحیت افراد کو ویوسٹوڈیو اور ریڈیو ویریتاس میں بطور نئے فنکار متعارف کروایا جائے۔
۳۔مستقبل قریب میں میوزک اکیڈمی کاآغاز کیا جائے اورنا صرف گلوکاری بلکہ مختلف میوزک کے آلات پر مہارت حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کو پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔
ورکشاپ کے اختتام پر فادر قیصر فیروز نے تمام سٹاف اور ساتھیوں کا خصوصی تعاون کے لیے نام بہ نام شکریہ ادا کیا اور شرکاء کو یقین دلایا کہ آئندہ بھی نوجوانوں کیلئے ایسی ٹریننگز کا اہتمام کیا جاتا رہے گا ۔ 

نوجوان میڈیا کو امن اور اتحاد کے فروغ کے لئے استعمال کریں ، ڈاکٹر بشپ جوزف ارشد
میڈیا صرف تفریح فراہم نہ کرے بلکہ لوگوں کی انسانی اقدار میں تربیت کرے۔ فادر قیصر فیروز 
رابطہ منزل کے سنگ نوجوانوں میں انقلاب کا عزم 
رپورٹ: ارم عمران، لاہور
رابطہ منزل لاہور میں ٹرینینگ ڈیپارٹمنٹ کو ایک نئی جلا بخشنے کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا،جس کا مو ضوع ’’ امن اور اتحا د کے صدا کار‘‘تھا۔ اس ورکشاپ میں پاکستان بھر سے زندگی کے مختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے، 30 سے زائد ممبران نے شرکت کی۔اس تربیتی ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو فنِ خطابت ، صدا کاری اور لکھنے کے ہُنر سے آراستہ کرنا تھا۔ڈاکٹر بشپ جوزف ارشد، چئیرمین نیشنل کمیشن برائے سماجی ابلاغیات ،اور تقسیمِ اسناد کی تقریب کے مہمانِ خصوصی نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، ’’نوجوان میڈیا کو امن اور اتحاد کے فروغ کے لئے استعمال کریں ‘‘۔ انہوں نے رابطہ منزل کی خدمت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ رابطہ منزل میں چار ڈیپارٹمنٹ ہیں: ۱۔ ریڈیو ویریتاس ایشیاء اردو سروس: امن دوستی اور محبت کے پیغام کو پھیلانے کے لئے، ۲۔ ویو سٹوڈیو: مسیحی اور لطوریائی گیتوں کے ذریعے بشارت کے لئے، ۳۔ پاپائے اعظم کے عالمی یومِ ابلاغِ عامہ کے پیغام کو پاکستان میں پھیلانے کے لئے اور ۴۔ابلاغ اور میڈیا میں نوجوانوں کی تربیت کے لئے۔ 

ورکشاپ کے پہلے د ن فادر قیصر فیروز(ڈائریکٹر۔رابطہ منزل ) نے ابلاغ اور میڈیا کے حوالے سے مفصل اور صخیم گفتگو کرتے ہوئے ان کے حقیقی معنی اور بنیادی پہلوو ں کو اْجاگر کیا اور واضع کیا کہ حقیقت میں ابلاغ کا کام اور اس کے اثرات کس طرح ہماری زندگی کے ہر لمحے سے وابستہ ہیں نیزاسے کس طرح بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے انسانی ابلاغ کو بحیثیت ایک سماجی عمل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ابلاغ کا مقصد صرف معلومات کو منتقل کرنا ہی نہیں بلکہ تعلقات قائم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کا سماجی کردار صرف لوگوں کو تفریح فراہم کرنا نہیں ہونا چاہئے بلکہ انسانی اقدار میں لوگوں کو تربیت دینا چاہئے تاکہ سماجی امن قائم ہو۔ عوامی خطابت میں شرکاء کی تربیت کے لئے مختلف مشقیں کروائی گئی ۔فادر موصوف نے اپنی گفتگو کو مزید آسان،دلچسپ اورشرکا کو ذہن نشین کروانے کے لئے مختلف ویڈیوز اور سلائیڈز کا استعمال کیا جسے شرکاء نے خوب سراہا۔

پہلے دن کے دوسرے حصے میں ریڈیو، ڈرامہ اور فلم کی دنیا کی مایہ ناز شخصیت جناب اسلم راؤ نے آواز کو بہتر اور موثر بنانے کی مختلف مشقیں کروائیں۔جس کے ذریعے تمام شرکا ء نے آواز کے بنیادی اصولوں ،مشقوں اور ضرورتوں کو نا صرف جانا بلکہ عملی طور پر انھیں انجام بھی دیا۔ ورکشاپ کے اسی حصے میں سکرپٹ رائٹنگ کے بنیادی اصولوں سے نا صرف واقفیت دلائی بلکہ عملی مشقوں کے ذریعے شرکا ء کے فن کو نکھارنے کے لیے ان کے کام کی درستگی بھی کی۔
دوسرے دن کا آغاز اسلم راؤ نے ڈرامہ نگاری کے اصولوں کو بیان کرتے ہوئے کیا ، شرکا کو مختلف گرہوں میں تقسیم کیا گیا اور ڈرامہ نگاری اور ڈائیلاگ کی ادائیگی)ڈلیوری) کی مختلف مشقیں کروائیں۔انہوں نے کہا کہ ایک براڈکاسٹر کے پاس لفظوں کی طاقت ہوتی ہے۔ آپ لوگوں کے دلوں سے نفرتیں نکالنے کے ڈاکٹر ہیں ۔ ضرور ہے کہ آپ اس فریضے کو حلیمی ، سادگی اور محبت سے سرانجام دیں۔ 

مسٹر عامر سہیل(پروگرام پروڈیوسر ۔آر۔وی۔اے اْردو سروس )نے انفوٹیمنٹ (infotainment) کی صلاح پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ مزاح کے زمرے میں رہتے ہوئے کس طرح سے معلومات منتقل کی جا سکتی ہیں۔ نیز انہوں نے کہا کہ معلومات کے ساتھ ساتھ تفریح کا رنگ آپ کے پروگرام کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔ ۔
عامر سہیل کے سیشن کے بعد مس ارم عمران نے vocal variety یعنی اْواز کے اتار چڑھاؤ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آواز کا استعمال مختلف سطحوں اور مختلف انداز میں خوبصورت ادائیگی کے ساتھ کسطرح کیا جا سکتا ہے۔نیز انہوں نے آواز میں جذبات کے عناصر اور درجات کے موضوعات کو بھی زیرِ بحث رکھا ۔
دوسرے دن کے اختتام پر مسٹر فرانسس زیوئیر نے آڈیو سافٹ وئیر (Adobe Audition) کے ساتھ آڈیو ریکارڈنگ اور ایڈیٹنگ کرنا سکھایا۔اور اس سے متعلقہ سلائیڈز بھی پرہ سکرین پر دیکھائیں۔ سیکھنے کا یہ عمل تیسرے روز کے پہلے حصے تک جاری رہا۔

بعدازاں تمام شرکاء نے ریکارڈنگ کے سلسلے کو جانا اور بذاتِ خود ریکارڈنگ کے مرحلے سے گزرے جبکہ اسی دوران فادر قیصر فیروز نے کہانی بتانے کے فن پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے کہا کہ یسوع المسیح نے سننے والوں کی تربیت کے لئے کہانیوں کا استعمال بڑے موثر طریقے سے کیا۔ مسرف بیٹے اور رحم دل باپ کی کہانی ایسی پُر زور اور موثر کہانی ہے جس نے کروڑوں لوگوں کی زندگی کی کہانی کو بدل کر رکھ دیا ہے اور آج بھی اس کہانی کے پیغام سے لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہو رہی ہیں ۔ 
ورکشاپ کے آخری حصے کا آغاز تقدس مآب بشپ جوزف ارشد کی آمد پر دعا ،تلاوتِ کلامِ پاک اورگیت سے ہوا ۔ تقدس مآب بشپ جوزف ارشد کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے پُر جوش استقبال کیا گیا اور مالا اور گلدستہ پیش کیا گیا ۔
تقدس مآب بشپ جوزف ارشد کی موجودگی میں شرکاء کی ریکارڈنگز سنی گئی۔ فادر قیصر فیروز نے ان ریکارڈنگز کے حوالے سے ان کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجزیہ پیش کیا ۔اور بہترین کارکردگی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ۔
بعدازاں تقدس مآب بشپ جوزف ارشد نے اپنے دستِ مبارک سے فادر قیصر کے ہمراہ تمام شرکا میں اسناد تقسیم کیں ۔
تمام شرکا کی نمائندگی کرتے ہوئے چند دوستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا :
*رابطہ منزل کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں کے لیے ایسی ورکشاپس اکژوبیشتر کرتے رہنا چاہیے 
*اس ورکشاپ کا معیار قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح کا ہے۔
* تمام سپیکرز اپنے دائراہ کار میں اعلٰی مہارت رکھتے ہیں جنھوں نے بڑے اعلٰی طریقے سے ہمیں سکھایا 
* دل سے فادر قیصر فیروز کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے نوجوانوں کے لئے ایک عمدہ ورکشاپ کا اہتمام کیا ۔
ورکشاپ کے اس حصے کو دو شرکاء ؛شفاقت اور صداقت نے اپنی خوبصورت آوازوں میں حمدیہ گیت گا کر دلکش بنا دیا ۔ 
اظہارِخیال کرتے ہوئے تقدس مآب بشپ جوزف ارشد نے ورکشاپ کے انعقاد اور اور ااس کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ا ور تین بڑی خوشخبریوں کا اعلان کیا :
۱۔اسی گروپ کو لیتے ہوئے درجہ دوم کی ورکشاپ کا اہتمام کیا جائے۔
۲۔ اسی گروپ کے با صلاحیت افراد کو ویوسٹوڈیو اور ریڈیو ویریتاس میں بطور نئے فنکار متعارف کروایا جائے۔
۳۔مستقبل قریب میں میوزک اکیڈمی کاآغاز کیا جائے اورنا صرف گلوکاری بلکہ مختلف میوزک کے آلات پر مہارت حاصل کرنے کے لیے نوجوانوں کو پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔
ورکشاپ کے اختتام پر فادر قیصر فیروز نے تمام سٹاف اور ساتھیوں کا خصوصی تعاون کے لیے نام بہ نام شکریہ ادا کیا اور شرکاء کو یقین دلایا کہ آئندہ بھی نوجوانوں کیلئے ایسی ٹریننگز کا اہتمام کیا جاتا رہے گا ۔