پوپ فرانسس اْمید کا چئمپین ہے ( فادر قیصر فیروز او ۔ایف۔ایم کیپ )

اس سیمینار کا موضوع ’’ اْمید اور بھروسے کی ابلاغیات ‘‘تھا جو کہ پاپائے اعظم فرانسس نے اپنے 51ویں یومِ ابلاغِ عامہ کے پیغام کے لیے منتخب کیا تھا ۔اس پروگرام کے مہمانِ خصوصی جناب سیدخالد وقار (اسٹیشن ڈائریکٹر ،ریڈیو پاکستان) تھے۔
فادر قیصر فیروزنے سلائیڈ ز کے ذریعے پوپ فرانسس کا پیغام بڑی خوبصورتی سے پیش کیا اور بتایا کہ اس پیغام کا آغاز بڑے حوصلہ افزا الفاظ سے ہوتا ہے جو کہ ہے ’’ مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں‘‘اور خداوند یسوع کے اسی وعدہ کی تسلی پا کر ہر طرح کے حالات میں ہمیں اْمید کا دامن تھامے رکھنا چاہیے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی کلیسیاِ ء نے انسانی ذہن کو چکی کے پاٹ سے تشبہیہ دی ہے ۔یہ چکی والے پر منحصر ہے کہ وہ کیا پیستا ہے ؟ اچھی گندم یا زوان۔ ہمارے ذہن ہمیشہ پیستے رہتے ہیں ، یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ذہن میں کیا ڈالتے ہیں انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ زندگی محض مسلسل واقعات کا نام نہیں ہے بلکہ ایک تاریخ ہے ایک کہانی ہے ،جسے تفسیری عدسہ کے انتخاب سے بتانے کی ضرورت ہے ۔یہ تفسیری عدسہ (لینز) متعلقہ معلومات کا چناؤ کرتا اور اسے اکٹھا کرتا ہے۔ہر چیز کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم چیزوں کو کیسے پرکھتے ہیں ،وہ عدسہ جس سے ہم چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ اگر تبدیل کر یں تو حقیقت کچھ مختلف دیکھائی دیتی ہے۔تاہم حقیقت کو درست عدسہ سے پڑھنا کیسے شروع کر سکتے ہیں ؟ ہم مسیحیوں کے لیے یہ عدسہ صرف خوشخبری ہی ہو سکتی ہے ۔اس کا آغاز محض پاک انجیل ،یسوع المسیح ابنِ خُدا (مرقس ۱:۱)سے کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں فادر موصوف نے کہا کہ اُمید اقدار میں سے سب سے زیادہ فروتن ہے۔کیونکہ زندگی کے نشیب وفراز میں یہ مخفی رہتی ہے ۔ لیکن پھر بھی یہ اْس خمیرکی مانند ہے جو سارے آٹے میں پھیل جاتا ہے۔ ہم اس اْمید کی پرورش اور آبیاری پاک انجیل کو نئے سرے سے پڑھنے سے کرتے ہیں۔
پروگرام کا آغاز فادر اشفاق انتھنی (ریکٹر،کیپوچن ہاوس ۔لاہور)کی دْعا سے ہوا جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک رفاقت فرانسس نے پیش کی ۔جس کے بعد مہمانِ خصوصی جناب سید خالد وقار (اسٹیشن ڈائریکٹر ،ریڈیو پاکستان) پھولوں کی مالا پہنا کر باقاعدہ خوش آمدید کہا گیا ۔
فادر قیصر فیروز نے تعارفی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں دہشت گردی ،افراتفری،جنگ وجدل کی خبریں نا اْمیدی پیدا کرتی ہیں۔جن سے اْمید کا دائرہ تنگ ہوتا جا رہا ہے ۔اپنے پیغام میں پوپ فرانسس نے اْمید کی کہانیوں کو زیادہ فروغ دینے کی دعوت دی ہے ۔تاکہ انھیں سننے اور پڑھنے والوں کی زندگیوں میں امید روشن ہو ۔ 


اس سیمینار کا ایک دلچسپ اور خوبصورت مرحلہ وہ رہا جس میں دخترانِ پولوس جماعت کی جانب سے تیار کردہ دائمی اْمید کے حوالے سے خاکہ پیش کیا گیا ۔ اس ڈرامہ میں انہوں نے دیکھایا کہ اْمید دائماً ہے۔اور ہم سب کو ایک دوسرے کے لیے اْمید کا وسیلہ بنناچاہیے۔
بعد ازاں مختصر ورکشاپ کے دوران شرکاء کو 5 گروہوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر گروپ کو ایک ایک سوال غور و خوص کے لیے دیا گیا ۔
یہ سوالات درج ذیل ہیں 
۱۔ آپ ٹی۔وی اور انٹر نیٹ پر کیا دیکھنا پسند کرتے ہیں؟
۲۔ ہماری زندگی پر میڈیا کے مثبت اثرات کیا ہیں؟
۳۔بچوں ااور نوجوانوں کو میڈیا اور سوشل میڈیا کیسے استعمال کرنا چاہیے؟
۴۔میڈیا کے ذریعے اْمید اور بھروسہ کو کیسے فروغ دے سکتے ہیں؟
۵۔معاشرے میں اْمید کی کون کونسی کہانیاں ہیں جو دوسروں کے ساتھ شئیر کی جا سکتی ہیں؟ 
ان سولات پر گروپ شیئرنگ کے بعد درج ذیل نکات سامنے آئے۔
۱۔میڈیا کا فرض ہے کہ سچائی کی تلاش کرے اور اسی کا ہی پرچار کرے۔
۲۔ہمیں ہر لحاظ سے امن،مفاہمت اور خیرخواہی کو فروغ دینا چاہیے۔
۳۔ والدین اور اساتذہ بچوں میں مثبت ابلاغِ عامہ کے فروغ کے ذمہ دار ہیں۔
۴۔مسیحی جرائد و رسائل میں اْمید کی کہانیاں شائع کی جائیں۔
۵۔مثبت اندازِ فکر کو عام کرنا ہو گا۔
مہمانِ خصوصی جناب سید خالد وقار نے اپنے خطاب میں کہا کہ پوپ فرانسس نے جو اْمید ہم سب کو دی ہے ،درحقیقت دنیا کو ایسی ہی اْمید کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے الفاظ کے چناو میں خاص دھیان سے کام لینا چاہیے تاکہ آپ کے الفاظ سے نہ تو کسی کا بھروسہ ٹوٹے اور نہ ہی کسی کی اْمید نا اْمیدی میں بدلے ۔نیز آخر میں انہوں نے یہ اْمید ظاہر کی کہ ہماری کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی اور ذرائع ابلاغ کو پْر اْمید بنانے میں ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔
کامران چوہدری نے اپنے مختصر اظہارِ خیال میں کہا کہ پہلا عالمی ابلاغِ عامہ 1968 منا یا گیا تھا ۔اْس قت کے موجودہ پوپ صاحب کے پیغام پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اْس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ ہم سب اب عا لمگیر گاوں (گلوبل ولیج) کے رہائشی ہیں اور یہ سب میڈیا کے طفیل ہی ہے ۔اور آج کا پاپائی پیغام ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم ابلاغ کار ہوتے ہوئے ہم اچھی خبروں کے ذریعے اْمید کے پیغام کو عام کریں اور بْرے حالات کا مقابلہ کریں۔
فادر موصوف نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نا اْمیدی کے دور میں پوپ فرانسس اْمید کا چیمپین ہے اور اندھیروں میں روشنی کا مینار ہے۔ہمیں آنے والے وقت سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ ا چھے مستقبل کے لیے پْر اْمید رہتے ہوئے اْمید کی کہانیوں کو پھیلائیں ۔